حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ». أَوْ نَحْوَ هَذَا
The Messenger of Allah (sallallahu alayhi wa sallam), may Allah bless him and grant him peace, said, “When a man visits an invalid, he plunges into mercy to the extent that when he sits with him, it settles in him,” or the like of that.
রেওয়ায়ত ১৭. জাবির ইবন আবদুল্লাহ (রাঃ)-এর বর্ণনা, রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম বলিয়াছেন, তোমাদের মধ্যে যখন কেহ রোগী দেখিতে যায়, তখন সে আল্লাহর রহমতের মধ্যে ঢুকিয়া পড়ে। অতঃপর যখন সে সেখানে বসে, তখন সেই রহমত তাহার ভিতরে অবস্থান করে কিংবা এই রকমই কিছু তিনি বলিয়াছেন।
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا ۔
ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے ۔
Cabir b. Abdullah (r.a.) Resulullah Sallallahu Aleyhi ve Sellem'in buyurduğunu rivayet etti: «Bir kimse, hasta ziyaretine gidince, ilahi rahmetin içine dalmış olur. Hastanın yanında oturunca da onun hakkında rahmet şahit olur.»