وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، (وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ
قَالَ صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى (مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ) أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ.
وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَحَذَفَ فَرَكَعَ. وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو. وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ الْعَاصِ
The Messenger of Allah (sallallahu alayhi wa sallam) led us in the morning prayer in Mecca and began Sarat al-Muminin (xxiii) but when he came to the mention of Moses and Aaron (verse. 45) or to the mention of Jesus (verse 50), a cough got the better of him, and he bowed. Abdullah ibn Saib was present there, and in the hadith narrated by Abd al-Razzaq (the words are): He cut short (the recitation) and bowed.
امام مسلم نے کہا : میں نے شفاعت کے بارے میں یہ حدیث عیسیٰ بن حماد زغبہ مصری کے سامنے پڑھی اور ان سے کہا : ( کیا ) یہ حدیث میں آپ کے حوالے سے بیان کروں کہ آپ نے اسے لیث بن سعد سے سنا ہے ؟
انہوں نے کہا : ہاں! ( امام مسلم نےکہا : ) میں نے عیسیٰ بن حماد سے کہا : آپ کو لیث بن سعد نےخالدبن یزید سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عطاء بن یسار سے ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے کہاکہ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول !
کیا ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب چمکتا ہوا بے ابر دن ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ؟
‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ۔ ( امام مسلم نے کہا : ) میں حدیث پڑھتا گیا یہاں تک کہ وہ ختم ہوگئی اور ( سعید بن ابی ہلال کی ) یہ حدیث حفص بن میسرہ کی ( مذکورہ ) حدیث کی طرح ہے ۔ انہوں نے کیا اور بغیر کسی قدم کے جوانہوں نے آگے بڑھایا ‘ ‘ کے بعد یہ اضافہ کیا : ’’چنانچہ ان سے کہا جائے گا : تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تم نے دیکھا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ۔
‘ ‘ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ پل بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی ادھار سے زیادہ تیز ہو گا ۔ لیث کی روایت میں یہ الفاظ : ’’ تووہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ‘ ‘ اور اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں ۔
چنانچہ عیسیٰ بن حماد نے اس کا اقرار کیا ( کہ انہوں نے اوپر بیان کی گئی سند کے ساتھ لیث سے یہ حدیث سنی ۔)