حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، (قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ،) عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ
يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»
He heard the (Prophet) say: A Muslim is he from whose hand and tongue the Muslims are safe.
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا : میں غالب بن عبید اللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا : مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا ، میں نے ( جو ) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا : مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی ، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی ۔
اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ ( امام مسلم نے کہا : ) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عفان کی کتاب میں ابو مقدام ہشام کی ( وہ ) روایت دیکھی ( جو عمر بن عبد العزیز کی حدیث ہے ) ( اس میں تھا : ) ہشام نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا ، محمد بن کعب سے حدیث بیان بیان کی ، کہا : میں نے عفان سے کہا : ( اہل علم ) کہتے ہیں : ہشام نے یہ ( حدیث ) محمد بن کعب سے سنی تھی ۔
تو وہ کہنے لگے : وہ ( ہشام ) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے ۔ ( پہلے ) وہ کہا کرتے تھے : مجھے یحییٰ نے محمد ( بن کعب ) سے روایت کی ، بعد ازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ ( حدیث براہ راست ) محمد سے سنی ہے ۔