حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ
قَالَ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ قَالَ ابْنُ صَالِحٍ قَالَ الْعَدَوِيُّ وَإِنَّمَا هُوَ الْعُذْرِيُّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ
Abd Allah ibn Thalabah said (the narrator Ahmad b. salih said: He, i.e “Abd al-Razzaq, said: He is ‘Adawl.’”
ইবনু শিহাব বলেন, ‘আবদুল্লাহ ইবনু সা‘লাবাহ ও আহমাদ ইবনু সলিহ তার সাথে আল-আদাবী অর্থাৎ আল-‘উযরী বলেছেন, একদা রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম ঈদের দুই দিন পূর্বে লোকদের উদ্দেশে বক্তৃতা দিলেন। অতঃপর মুকরীর (‘আবদুল্লাহ ইবনু ইয়াযীদের) হাদীসের অনুরূপ।[1] সহীহ।
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ ( جزم کے ساتھ بغیر شک کے ) کہا ۱؎۔
احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری ( عبداللہ بن یزید ) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔
Abdullah b. Sa'lebe el-Uzrî şöyle demiştir: Resûlullah (s.a.v.) Ramazan bayramından iki gün önce halka hitap etti. Ahmed b. Salih diyor ki: Sonra râvi bir önceki (1620 nolu) el-Mukrî hadisinin mânâsım rivayet etti